بھٹکل : 30؍ مئی (ایس اؤ نیوز ) شہر کے شمس الدین سرکل کے قریب قومی شاہراہ سے متصل ستکار ہوٹل کی بازووالی عمارت کے انہدام کے دوران گراویٹی لائن کے پائپ کو نقصان پہنچنے کا خمیازہ غوثیہ اسٹریٹ اور اس سے متصل علاقوں سے گذرنے والی شرابی ندی کو بھگتنا پڑا، کیونکہ ویٹ ویل کا پانی شرابی ندی میں بہادینے کی وجہ سے ندی پھر ایک بار گھٹر کے نالے میں تبدیل ہوگئی اور نتیجے میں ندی کی مچھلیاں ندی کنارے بے دم ہوکر تیرتی ہوئی نظر آئیں۔
بھٹکل میونسپل کونسلر قیصر محتشم نے اس سلسلے میں وضاحت کرتےہوئے بتایا کہ پائپ کو نقصان ہونے کی وجہ سے غوثیہ اسٹریٹ میں واقع ویٹ ویل کے پمپ سے پانی کو وینکٹاپور مرکز تک پہنچانا ممکن نہ ہوا تو یہی جمع شدہ پانی اچانک جامعہ اور خلیفہ محلے کے سوکھے کنوؤں میں داخل ہونا شروع ہوگیا۔کنووں کا پانی خراب ہوتے ہی عوام کے فون آنا شروع ہوگئے۔عوام کو پیش انے والے اس معاملے کو حل کرنے کے لئے بلدیہ اسٹائنڈنگ کمیٹی چیرمن عبدالظیم منڈے سمیت غوثیہ محلے کے ذمہ داران نے چھان بین کی تو پتہ چلا کہ پمپ نہ چلانے سے ویٹ ویل میں جمع پانی الٹا بہنا شروع ہوگیا ہے اور وہ پانی پینے کے پانی کے کنوؤں میں جمع ہونا شروع ہواہے۔ اسی وقت ہم ذمہ داروں نے فیصلہ لیا کہ ویٹ ویل جو بھر چکی تھی اس کا پانی شرابی ندی میں چھوڑ دیا جائے۔ جیسے ہی گھٹر کا پانی شرابی ندی میں بہایا گیا، ندی کی مچھلیاں مرنے شروع ہوگئی ہیں۔ قیصر نے بتایا کہ اس سلسلے میں ہم نے میونسپالٹی کے انجنئیر سے بات چیت کی ہے انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آج یعنی منگل کی رات یا کل یعنی بدھ صبح تک نقصان شدہ پائپ کی مرمت ہوجائے گی اور مسئلہ حل ہوجائے گا۔
ندی میں کچروں کا ڈھیر پائے جانے کے متعلق سوال پوچھے جانے پر انہوں نےبتایا کہ میونسپالٹی کی طرف سے کچروں کو لے جانے کا بہترین انتظام ہونے کے باوجود لوگ دور دراز علاقوں سے بھی کچرہ ندی میں پھینک دیتے ہیں جس کے سبب یہاں کچروں کا ڈھیر نظر آرہا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھر کے پاس آنے والی کچرہ گاڑی والوں کو ہی دیں اور ندی میں کچرا پھینکنا بند کریں۔